Sangemeel

کیا بندر پہلے انسان تھے یا انسان بندر؟ مزید پڑھئے

انسان کے وجود میں آنے کے بارے میں دو بنیادی نظریے ہیں۔ ایک یہ کہ باقی مخلوق کی طرح اسے ایک غیبی طاقت نے تخلیق کیا، یہ نظریہ مختلف مذہبی عقائد کے ساتھ معمولی طور پر بدلتا رہتا ہے، اور دوسرا یہ کہ انسان ارتقائی عمل سے گزرتے ہوئے اس شکل میں پہنچا ہے جس میں وہ آج نظر آتا ہے۔ یہ نظریہ برطانوی سائنسدان چارلس ڈاروِن نے انیسویں صدی میں پیش کیا تھا۔

اب انڈیا کے ایک وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ انسان جیسا آج ہے ایسا ہی ہمیشہ سے تھا اور ایسا ہی رہے گا۔ ڈارون کے نظریہ ارتقا کو مسترد کرنے والے وزیر ستیہ پال سنگھ ہیں جو ممبئی کے پولیس کمشنر رہ چکے ہیں اور اب انسانی وسائل کے نائب وزیر ہیں، یعنی ملک میں تعلیم کی ذمہ داری بھی ان کے قلمدان میں شامل ہے۔

مسٹر سنگھ کا کہنا ہے کہ ارتقا کی تھیوری سکولوں میں پڑھانا بند کر دی جانا چاہیے کیونکہ سائنس کی کسوٹی پر یہ سچ ثابت نہیں ہوتی۔ ہمارے آبا و اجداد نے کبھی نہ تحریری طور پر اور نہ زبانی یہ نہیں کہا کہ انھوں نے کسی بندر کو انسان میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ نہ ہم نے کسی (پرانی) کتاب میں ایسا پڑھا ہے اور نہ اپنے بزرگوں سے کسی کہانی میں ایسا سنا ہے!

انڈین اخبارات میں آج کئی کارٹون شائع ہوئے ہیں جن میں ایک تیسرا نظریہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ بھی صرف ایک تھیوری ہے اور وقت کے ساتھ ہی یہ معلوم ہوگا کہ اس میں سائنس کے لحاظ سے کتنا دم ہے۔ اس کے مطابق بندر پہلے انسان تھے اور اب ارتقا کے عمل سے گزرتے ہوئے اس شکل میں پہنچ رہے ہیں جس میں ہمیں آج پیڑوں پر جھولتے ہوئے نظر آتے ہیں!

یہ بہت سنگین معاملہ ہے کیونکہ اگر آپ کسی انسان کو بندر کہہ دیں تو وہ برا مان جاتا ہے لیکن اگر آپ کسی بندر کو انسان کہیں تو، جہاں تک مجھے معلوم ہے، اسے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ بندر کو معلوم ہے کہ آگے چل کر اسے انسان بننا ہے، اس لیے اسے زیادہ برا نہیں لگتا اور انسان کو یہ نہیں معلوم کہ وہ بندر بننے والا ہے، اس لیے وہ برا مان جاتا ہے۔ یہ صرف ایک ابتدائی تھیوری ہے اور اسے کسی نصاب کی کتاب میں شامل کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ آپ اچھی طرح سے سوچ سمجھ لیں کیونکہ کبھی کسی بندر کو انسان بنتے ہوئے کسی نے دیکھا نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں