Drone Attacks

پاکستان بھی چپ نہ رہا، ٹرمپ کی دھمکی، دوسرا ڈرون حملہ، مزید پڑھئے

ہنگو، پشاور ( نمائندگان خبریں) اورکزئی ایجنسی میں پاک افغان سرحدی علاقے میں افغان مہاجرین کی بستی پر امریکی ڈرون حملے میں حقانی نیٹ ورک کے اہم کمانڈر سمیت دو افراد ہلاک جبکہ ایک گھر تباہ ہو گیا ہے

،امریکی جاسوس طیارے نے اسپن ٹل ڈپہ ماموزئی میں افغان مہاجرین کے زیر استعمال گھر کو دو گائیڈڈ میزائل داغے، پولیٹیکل انتظامیہ نے کمانڈر احسان عرف خورئے کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کی صبح اورکزئی ایجنسی میں پاک افغان سرحد ی علاقے میں امریکی ڈرون حملے میں ود افراد ہلاک ہو گئے ۔امریکی جاسوس طیاروں نے شمالی وزیر ستان سے ملحقہ سرحدی علاقے اسپن ٹل ڈپہ ماموزئی میں افغان مہاجرین کی بستی کو نشانہ بنایا۔

ڈرون حملے میں ایک گھر پر دو گائیڈڈ میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے جن میں سے ایک کی شناخت حقانی نیٹ ورک کے اہم کمانڈ احسان عرف خورئے کے نام سے ہوئی ہے جبکہ مارے جانے والے دوسرے شخص کی شناخت ناصر محمود کے نام سے ہوئی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ کمانڈر احسان کا محافظ تھا۔پولیٹیکل انتظامیہ نے حقانی کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ۔ادھر پولیٹیکل انتظامیہ نے ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈرون حملہ افغان مہاجرین کے گھر پر ہوا تھا۔پولیٹیکل انتظامیہ نے دعوی کیا کہ حملے میں احسان عرف خورئے، جو مبینہ طور پر حقانی گروپ کمانڈر تھا، اور اس کا ساتھی ناصر محمود ہلاک ہوگئے۔مقامی لوگوں کے مطابق ڈرون حملے میں گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے ۔

ایس ایچ او ٹل امیر زمان نے تصدیق کی کہ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کی شناخت ناصر محمود عرف خاوری کے نام سے ہوئی ہے۔اس سے قبل رواں ماہ 17 جنوری کو بھی پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں 2 مبینہ شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔پہلا حملہ کرم ایجنسی کے علاقے لوئر کرم میں کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا، جبکہ دوسرا ڈرون حملہ افغان علاقے خانی کلے میں کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 2 مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔ دریں اثناءپاکستان نے افغانستان میں امریکی اتحاد ریزولوٹ سپورٹ مشن (آر ایس ایم) کی جانب سے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کی کرم ایجنسی میں افغان مہاجر کیمپ پر ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے امریکا اور پاکستان کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جاری تعاون کو دھچکا لگے گا۔

دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹرمحمد فیصل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلسل خاص کارروائی کے لیے خفیہ معلومات کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیتا رہا ہے تاکہ ہمارے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہماری اپنی فورسز کریں۔دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغان مہاجرین کی فوری واپسی پر بھی زور دیتا رہا ہے کیونکہ پاکستان میں ان کی موجودگی سے افغان دہشت گردوں کو ان میں گھل ملنے میں مدد ملتی ہے۔بغیر اطلاع کے ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی روح کو دھچکا لگے گا۔وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سالمیت کے تحفظ میں کوئی بھی قدم اٹھاسکتا ہے، امریکہ کواجازت نہیں کہ پاکستان کی سرحدکاتقدس پامال کرے۔

امریکہ ایسی کارروائیاں وہاںکیوں نہیں کرتا؟ ڈرون حملوں کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے ماضی میں بھی ایسے حملے خودمختاری کیخلاف سمجھتے ر ہے ہیں،ہمارے پاس یہ حملے ر وکنے کی فضائی صلاحیت موجودہے۔ خیال رہے امریکہ نے اورکزئی ایجنسی میں ایک گھر پر ڈرون حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں