Naqeeb

بیرون ملک فرارکی کوشش ناکام، رائو انوار کیخلاف مقدمہ درج ،مزید پڑھئے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) نقیب اللہ محسود کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے واقعہ کا مقدمہ پولیس نے انسداد دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کرلیا۔

مقدمے میں ایس ایس پی رائو انوار سمیت دیگر اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے کہا ہے کہ نقیب اللہ محسود بے گناہ تھا اور اسے جعلی مقابلے میں مارا گیا۔ سہراب گوٹھ پر محسود جرگے کے قبائل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ کیس کی مکمل انکوائری کرکے منطقی انجام تک پہنچائینگے۔

تفصیلات کے مطابق شاہ لطیف ٹائون تھانے کی حدود میں 13جنوری کو مبینہ پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کا مقدمہ نمبر 40 /18 مقتول کے والد محمد خان کی مدعیت میں سچل تھانے میں درج کرلیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7ATAقتل کی دفعہ 302اغوا کی دفعہ 365حبس بے جامیں رکھنے، تشدد کی دفعہ 344/34جبکہ سازش یا ایما کی دفعہ 109شامل ہے۔ ایف آئی آر کے متن میں مدعی محمد خان نے کہا کہ ان کا بیٹا محنت مزدوری کرنے کراچی آیا تھا ،نقیب اللہ محسود 3جنوری کو سپر ہائی وے پر واقع گل شیر آغا ہوٹل پر بیٹھا تھا جہاں سے اٹھ کر وہ اپنی رہائشگاہ چیپل گارڈن گیا ،اسی دوران رائو انوار کے 8یا 9اہلکار جو کہ سادہ لباس تھے وہ آئے اور میرے بیٹے کے ساتھ2مزید افراد حضرت علی اور قاسم کو بھی اپنے ہمراہ لے گئے ، 6جنوری کو مذکورہ دونوں افراد کو سپرہائی وے پر چھوڑ دیا گیا ،،

میرے بیٹے نقیب کو راؤ انوار نے اپنی قید میں رکھا، اس دوران اسکا موبائل بند تھا، بعدازاں 13جنوری کو رائو انوار اور اس کی ٹیم نے شاہ لطیف ٹائون میں مبینہ مقابلے میں اس کو قتل کردیا ۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق جعلی مقابلے پر کمیٹی بنی جس نے راؤ انوار اور اہلکاروں کو ملوث پایا، اس واقعے سے لوگوں میں خوف و حراس اور دہشت پھیلائی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں